Seddulbahir 32 Saat in Urdu | Seddulbahir 32 Saat Drama Full Story

 Seddulbahir 32 Saat in Urdu | Seddulbahir 32 Saat Drama Full Story

سدالبحر 32 سات ایک ترک منی سیریز ہے جو کہ ترکش چینل ٹی آر ٹی 1 پر نشر ہوئی۔ سیریز کا پریمیئر 14 جنوری 2016 کو ہوا۔

 یہ پہلی جنگ عظیم کے دوران 'Canakkale'  کے سدالبحر میں ایک ترکش فوجی کے  32 گھنٹوں کی ایک حقیقی کہانی ہے۔

سدالبحر 32 سات، بہادر ترک فوجیوں کے بارے میں ایک سچی کہانی ہے ، جو ہزاروں برطانوی فوجیوں کے سامنے تعداد میں صرف 300 تھے۔ یہ جنگ 32 گھنٹے جاری رہتی ہے جہاں بہت ہی کم ترک فوجی شہید ہوتے ہیں، جبکہ وہ مقابلے میں ہزاروں برطانوی فوجی کو ہلاک کرتے ہیں.


Seddulbahir-32-Saat-in-Urdu
Seddulbahir 32 Saat in Urdu 


25 اپریل 1915 کی صبح تقریبا 4:30 بجے ایک فوج نے سدالبحر کے ساحل پر حملہ کیا۔ یہ اتحادی فوجی قوت برطانیہ کی 29 ویں ڈویژن ، فرانس کی پہلی ڈویژن اور برطانوی نیول ڈویژن پر مشتمل تھی۔ داخلی راستے سے حملہ شروع کر کے یہ فوج چاروں طرف پھیل جاتی ہے اور ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ گنتی نہیں جاسکتی تھی۔

اس سیریز میں بہت سارے مشہور اداکار کام کیا ہے۔ جنگ کے ماحول کو بالکل اصلی دکھانےکے لئے پروڈکشن ٹیم نے بہت زیادہ محنت کی ہے۔ اس کے لیے انہوں نے پانچ مختلف مقامات پر سیٹ تیار کئے۔ پرانی تاریخی کتابوں سے مدد لے کر اسلحہ اور لباس تیار کیے گئے۔ یہ ایک مختصر ٹی وی سیریز ہے جو صرف 2 گھنٹے والی 4 اقساط پر مشتمل ہے اور اسے تقریبا چار مہینوں میں فلمایا گیا ہے۔

اس سیریز میں بہت سارے مشہور اداکار کام کیا ہے۔ جنگ کے ماحول کو بالکل اصلی دکھانے کے لیے پروڈکشن ٹیم نے بہت زیادہ محنت کی ہے۔ اس کے لیے انہوں نے پانچ مختلف مقامات پر سیٹ تیار کئے۔ پرانی تاریخی کتابوں سے مدد لے کر اسلحہ اور لباس تیار کیے گئے۔ یہ ایک مختصر ٹی وی سیریز ہے جو صرف 4 اقساط (دو گھنٹے والی)  پر مشتمل ہے اور اسے تقریبا چار مہینوں میں فلمایا گیا ہے۔


Seddulbahir-with-urdu-Subtitles
Seddulbahir 32 Saat in Urdu 


اس سیریل کی کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب پہلی عالمی جنگ جاری ہوتی ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کے سپاہیوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے اور نئے فوجیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ سارجنٹ مہمت ایک فوجی افسر ہے جو فرنٹ لائن پر لڑ رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے اہل خانہ کو خط لکھتا ہے اور انہیں اپنی حفاظت کے بارے میں بتاتا ہے۔ تاہم اس حملے کو بے اثر کرنے کے لئے  میجر محمود صابری کو برطانوی فوج کے خلاف مزید فوجی تیار کرنے کا ٹاسک دیا جاتا ہے۔

استنبول جانے والا راستہ  Canakkale سے ہوکر جاتا ہے. ترک فوج نے برطانوی حملے کو روکنے کے لئے 'Canakkale' میں قیام کیا ہوتا ہے. اس سیریل کا ایک کردار عثمان بھی 'Canakkale' میں ہی موجود ہوتا ہے اور اپنے گاؤں سے آنے والے سپاہیوں سے بات چیت کرتا ہے. عثمان بھی فوج میں شمولیت اختیار کرتا ہے اور اپنے مادر وطن کا دفاع کرتا ہے. سارجنٹ مہمت، حسین کے والد ہیں اور اس سیریل میں ایک قائدانہ کردار ادا کرتے ہیں.

 Seddulbahir 32 Saat With Urdu Subtitles Of Makki Tv

حسین کے ساتھ اس کا دوست رمیز بھی جنگ میں لڑنے کے لئے آتا ہے. رمیز اپنے پیچھے اپنی پیاری بیوی 'Hatice Hatun' اور چھوٹے بچے کو چھوڑ کر آتا ہے. رمیز کے بڑے بیٹے کی عمر ابھی زیادہ نہیں ہے اور وہ اپنے باپ سے جدائی برداشت نہیں کرسکتا. باقی بہت سارے فوجیوں کے ساتھ رمیز اور حسین بھی 'Canakkale' پہنچ جاتے ہیں. یہاں پر حسین اپنے والد سارجنٹ مہمت سے ملنا چاہتا ہے، لیکن یہ آسان نہیں تھا.

زلیحہ اور حسین ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں. جب حسین اسے جنگ میں جانے کا بتاتا ہے تو وہ بھی اس ک ساتھ نرس کے طور پر جانے کی ضد کرتی ہے.

اپریل 25 سن 1915 کو برطانوی فوج نے اپنے جہازوں سے سدالبحر پر بمباری شروع کردی. ترک فوج نے خود کو خندق میں رکھتے ہوئے برطانوی فوج کی پیش قدمی کو روکنے کی کوشش کی.

اس نازک صورتحال میں  عثمانی پاشا نے جرمن مارشل لیمان پاشے سے مدد کی درخواست کی۔ انہوں نے موجودہ صورتحال سے جرمن مارشل پاشا کو آگاہ کیا۔ نیز  اس سے سدالبحر کو بچانے کے لئے مزید فوجی مدد کی درخواست بھی کی۔ اورساتھ میں ان سے کہا  کہ اس مرحلے پر ایک جرمن حکومت کو ہمارا ساتھ دینا چاہئے۔ جواب میں جرمن پاشا نے کسی بھی قسم کی مدد کرنے سے انکار کردیا۔ اور جرمن پاشا نے یہ کہا کہ یہ حملہ جعلی ہے اور مرکزی حملہ اب بھی دوسرے کنارے سے آنا باقی ہے۔


Seddulbahir-32-Saat-Urdu
Seddulbahir 32 Saat in Urdu 


حتی کہ عثمانی فوج اکیلی اور تعداد میں بہت کم رہ جاتی ہے لیکن یہ سب بہادر ہیں اور ان کو اللہ پر کامل یقین ہوتا ہے. اپنا دل چھوٹا کرنے کی بجائے زخمی فوجی بھی اپنے آبائی وطن کی حفاظت کے لئے اپنے بیڈ سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں. جبکہ دوسری طرف جاوید پاشا جرمن پاشا کہ اس تحقیر آمیز رویہ پر پریشان ہوتے ہیں. ادھر ، میجر محمود صابری کو معلوم ہوا کہ برطانوی فوج ساحل پر آگے بڑھ رہی ہے۔ دوسری طرف زلیحہ کو حسین نظر نہیں آتا، وہ سب فوجیوں سے حسین کا پوچھتی ہے کہ وہ کہاں ہے، زندہ بھی ہے کہ نہیں.

برطانوی فوج سے نمٹنے کے لئے  میجر محمود صابری نے جوابی حملہ شروع کرتا ہے۔ جاوید پاشا کو جرمنی کے مارشل لیمان کی حقیقت کا ادراک ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ ایک دوسرے سے گفتگو کے لئے اپنے آفس جاتا ہے۔ جاوید پاشا نے اسے بتاتا ہے کہ وہ ہی اس پریشانی کا ذمہ دار ہے۔ جب انہوں نے یورپ میں وقت کی بچت کے لئے کینککلے 'Canakkale' میں جنگ میں توسیع کی تھی۔ جاوید پاشا کا کہتا ہے کہ وہ یہ جنگ اسی طرح جیتیں گے جس طرح انہوں نے 18 مارچ کو جیتی تھی ۔

زلیحہ اب بھی ہر ایک سے حسین کے بارے میں پوچھ گچھ کررہی ہے۔ اس کے بعد وہ سارجنٹ مہمت (حسین کے والد) کو دیکھتی ہے اور اسے حسین کی گمشدگی بارے میں بتا دیتی ہے۔ سارجنٹ مہمت کو اپنے بیٹے کی فکر لاحق ہوجاتی ہے اور اسے ڈھونڈنے لگتا ہے۔ خلیل سمیع پاشا ہیڈ کوارٹر آتا ہے  اور فوجیوں کی بہادری پر انہیں مبارکباد پیش کرتا ہے۔ نیز ، خلیل پاشا , میجر محمود صابری سے بات چیت کرتے ہیں اور جنگ کی موجودہ صورتحال کے بارے میں جانتے ہیں۔ پہلے کامیاب حملے کے بعد ، میجر محمود صابری اگلا حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لیکن خلیل پاشا پھر اسے روکتا ہے اور اسے جرمن لیمن پاشا کے جوابی ردعمل آنے تک  کا انتظار کرنے کی یاد دلاتا ہے۔


Seddulbahir-Drama-Urdu
Seddulbahir 32 Saat in Urdu 


خلیل پاشا جرمن پاشا کے بدلتے رویے سے لاعلم تھا۔ دریں اثنا ، وہ خود ہی فوجیوں کی مدد کرتا ہے۔ میجر محمود صابری اور لیفٹیننٹ کرنل مصطفیٰ کمال نے حملے کے بعد ہیڈ کوارٹر میں ترک فوجیوں کی واپسی کے لئے بھرپور کوششیں کیں۔ مصطفیٰ کمال نے زخمی فوجیوں کو بحفاظت ہیڈ کوارٹر لے جانے کے لئے فوراً کاریں دستیاب کروا دیں۔ زلیحہ نے فوجیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ پرسکون رہیں اور ہیڈ کوارٹر کے اندر ہی رہیں۔ لیکن ، تھوڑی بہت صحتیابی کے بعد ، وہ میجر محمود صابری سے اجازت لینے کے بعد دوبارہ اس جنگ عظیم میں چلے جاتے ہیں۔

Seddulbahir Dram in Urdu

جب میجر محمود صابری کو معلوم ہوا کہ سارجنٹ مہمت اور سارجنٹ یحیی جن کو مکمل صحت یابی تک ریسٹ کا حکم تھا، اس کے باوجود وہ بھی جنگ لڑرہے ہیں۔ وہ تمام فوجیوں کو جنگ میں حصہ لینے کی اجازت دے دیتا ہے۔ اس بار ، میجر محمود صابری فوج کے اس دستے کی قیادت کر رہے ہوتے ہیں۔ پہلے ، وہ ان کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں اور پھر برطانوی فوج کا سامنا کرنے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنے والے تمام زخمی فوجی جان ہتھیلی پر رکھ آئے ہیں۔ جب وہ اس جنگ والے مقام پر پہنچے تو ، انھوں نے سارجنٹ مہمت اور سارجنٹ یحییٰ کو برطانوی فوج کے افسر کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے دیکھا جو برطانوی فوج کی قیادت کررہے ہیں۔ سارجنٹ مہمت نے اس کے قریب جا کر گفتگو شروع کی۔ وہ پوچھتا ہے کہ وہ یہاں کیوں آیا؟ یہ میرا وطن ہے۔ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ برطانوی فوج کے افسر نے اس کے جواب میں کہا ، "مجھے تم کو جواب دینے کا پابند نہیں ہوں۔ آپ کا حیثیت (رینک) مجھ سے کم ہے۔ اس کے اس جواب ساتھ ہی ، فوج کے دو دستے کے مابین لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔

چونکہ ترک فوجی تعداد میں بہت کم تھے لیکن پھر بھی ان کا ایمان برطانوی گنتی سے بہت بڑا تھا۔ ترک فوجیوں نے اللہ کے نام سے لڑنا شروع کیا اور ہزاروں برطانوی فوج کو ہلاک کردیا۔ چنانچہ ، انہوں نے اپنی ہمت اور ایمان کے ساتھ ، یہ جنگ جیت لی۔ انہوں نے اپنے وطن کو برطانیہ کے زیر قبضہ ہونے سے بچا لیا۔ ترک فوجی ، دشمنوں کو ختم کرنے کے بعد ، اب گاؤں واپس جارہے ہیں۔ جب وہ وہاں پہنچے تو زلیحہ, حسین کے بارے میں سب سے پوچھتی ہے۔ کسی میں اس کی شہادت کے بارے میں بتانے کی ہمت نہیں ہے۔ وہ بہت روتی ہے اور پھر اس کی روح کے لئے دعا کرتی ہے۔ حسین کے ساتھ ساتھ سیکڑوں ترک فوجی اپنی مادر وطن کو بچاتے ہوئے شہید ہوگئے ہوتے ہیں۔


Seddulbahir-Turkish-Drama-in-urdu
Seddulbahir 32 Saat in Urdu 


اس ڈرامہ سیریل میں آپ جو دیریلش ارطغرل کے ڈراگوس، اصلاحان خاتون ، 'Tugtekin' اور کرولش عثمان سے گونچا خاتون بھی اداکاری کرتی نظر آئیں گی. اس کے علاوہ یونس ایمرے، سلطان محمد فاتح اور بھی بہت سی سیریل کے مشہور اداکار نظر آئیں گے.


Seddulbahir 32 Saat in Urdu All Episodes :

Click Here To Watch Episode 1 Of Seddulbahir in Urdu,

Click Here To Watch Episode 2 Of Seddulbahir in Urdu,

Click Here To Watch Episode 3 Of Seddulbahir in Urdu,

Click Here To Watch Episode 4 Of Seddulbahir in Urdu,

Thanks for watching Seddulbahir 32 Saat in Urdu here. Hope you all enjoy Seddulbahir 32 Saat with urdu subtitles at my blog. If you enjoy then please share it with your family and friends. Thanks



Post a Comment

0 Comments